محنتی ہنر مند کہاں گئے
(jahangir khan marri, karachi pakistan)
ایک ملک میں دو قومیں رہتی تھیں-ایک قوم مکڑی کی تھی اور دوسری قوم چیونٹیوں کی تھی- جب بہار کا موسم آیا تو محنتی قوم چیونٹوں نے اپنی خوراک جمع کرنا شروع کر دی تاکہ مشکل وقت مین اپنی زندگی سکون سے گزرے اور اپنے گھر مضبوط کیے تاکہ بارش اور طوفان میں سکون سے رہ سکیں مکڑی نے یہ دیکھ کر کہا یہ تم لوگ کیا کر رہے ہو چیونٹوں نے کہا ہم لوگ اپنے مشکل وقت کے لیے خوراک جمع کر رہے ہیں مکڑی نے کہا کھ یھ جگہ کیوں بنا رہے ہو تم لوگ چیونٹیوں نےاس لیے کہ جب بارش اور طوفان آئے تو ہم لوگ سکون سے رہ سکیں- مکڑی نے کہا یہ تو حکومت کا کام ہے تم لوگ تو پاگل ہوکچھ عرصے بعد بارش ہو گئی اور سرد موسم آیا تو چیونٹیوں نے اپنی محنت اور ہنر سے جو کچھ جمع کیا تھا وہ کھایا اور سکون سے رہے اور مشکل وقت گزر گیا- مگر مکڑی جو کہ ہمیشھ مفت کا کھاتی تھی اور فری میں رہتی تھی اوراس نے مشکل وقت کے لیے کچھ نہیں کیا تھا سردی اور بارش میں وہ مر گئییہ دیکھ کر اپوزیشن انسانی حقوق مفت خور اور دوسری بیکار جماعتیں اپنے پارٹی کے جھنڈے لے کر پہنچ گئیں اور حکومت کے خلاف مکڑی کے لاش پر پہنچ کر خوب نعرے بازی کی کہ حکومت کچھ بھی نہیں کر رہی ان غریبوں کے لیے اور بیچارے بھوک اور سردی سے مر گئے اس حکومت کو رہنے کا کوئی حق نہیں اور یہ ہڑتال جب ختم ہوگی جب تک حکومت ان مکڑیوں کے لیے کچھ نہیں کرتیمجبور ہو کر حکومت نے ان مکڑیوں کے لیے گھر بنائے اوران کے لیے مفت خوراک کا بندوبست کیا یھ دیکھ کر محنتی چیونٹیوں کو بہت دکھ ہوا کہ محنتی چیونٹیون نے فیصلہ کیا کہ اب اس ملک میں رہنے کا کوئی فائدہ نہیں جو لوگ کچھ نہیں کرتے ان کو حکومت سب کچھ کر کے دیتی ہے اورجو کچھ ہم محنتی لوگ کرتے اس کا کوئی صلہ نہیں دیتے اور وہ محنتی قوم چیونٹیوں نےاس ملک کو چھوڑ دیا اور چلے گئے آپ لوگوں کو پتہ ہے وہ ملک کون سا تھاوہ ملک پاکستان ہے اس ملک سے محنتی ایماندار ہنر مند چلے گئے ہیں اس میں تمام قصور حکومت کی پالیسیوں کا ہے
ہنرمندی کامیابی کی ضمانت ہے
(Kausar Ashfaq, Karachi)
وہ انسان جس کی سوچ منفی ہو یا کم ہمت ، کاہل اور محنت سے بھاگنے والا وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا ۔ کیونکہ ایسے لوگ درحقیقت بزدل ہوتے ہیں اور وہ ان دیکھے نقصان اور ہار سے ڈرتے ہیں ۔ وہ ہمیشہ ایسا کام کرنا چاہتے ہیں جس سے سو فیصد انہیں فائدہ ہو ۔ اور ظاہر ہے کسی بھی کام کے آغاز میں کوئی بھی شرطیہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ کامیاب ہوگا یا ناکام، اسے فائدہ ہوگا یا نقصان۔ان لوگوں کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ جب تک اعلیٰ اسکول کی تعلیم، بڑی بڑی ڈگریاں یا کسی بڑے آدمی کی سفارش نہ ہو کوئی بھی شخص کامیاب زندگی نہیں گزار سکتا۔ اس کے برعکس وہ لوگ جو ناکامی سے نہیں ڈرتے اور محنت سے نہیں گھبراتے کامیابی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ کیونکہ ایسے لوگ کبھی حوصلہ نہیں ہارتے۔ اور وہ ایک کے بعد ایک تجربہ کرتے رہتے ہیں اور ظاہر ہے کسی نہ کسی کام میں انہیں کامیابی مل ہی جاتی ہے۔کیونکہ ایسے لوگوں کو اس بات پر یقین ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتا۔ اور وہ کسی بھی قسم کی محنت کرنے سے گریز نہیں کرتے بلکہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر کسی نہ کسی ہنر کو سیکھتے رہتے ہیں۔ اور پھر اس ہنر کی بدولت وہ کامیابیوں کی طرف قدم بڑھاتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہنرمند شخص کو کبھی ذلت کی زندگی نہیں گزارنی پڑی۔ ہنر وہ فن ہے کہ جس کے پاس ہے وہ کبھی دنیا میں ناکام نہیں ہوسکتا ۔ بے شک کچھ عرصہ یا کچھ وقت مشکلات میں ضرور گزارے گا مگر ذلت یا بے غیرتی کی زندگی سے محفوظ رہتا ہے۔ وہ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بہتر یہ سمجھتا ہے کہ ایک وقت کی روٹی کھالے مگر اپنی محنت کی کمائی سے ۔ اور یہی جذبہ اسے ایک خودارانسان کی طرح زندگی گزارنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ کامیاب انسان وہ نہیں جس کے پاس بے تحاشا دولت، بینک بیلنس ، بنگلہ ، گاڑی اور نوکر چاکر ہوں۔ کامیاب انسان وہ ہے جوانتہائی مشکلات میں بھی اپنی عزتِ نفس کی حفاظت کرتے ہوئے انا اور خوداری کے اپنی زندگی گزارتا ہے۔ اور اللہ کی دی ہوئی زندگی کی قدر کرتا ہے، اور اس کو بہتر سے بہتر بنانے کے لئے دن رات جدوجہد کرتا رہتا ہو اور صرف اللہ کی مدد کا طلبگار ہو کسی بندے کا آسرا نہ دیکھے۔ اور ایک کامیاب اور باعزت زندگی گزارنے کے لئے ہمت و حوصلہ، انا و خوداری کے ساتھ ساتھ محنت کرنے کا جذبہ ہونا ضروری ہے۔ اور یہ کام اتنا آسان نہیں کہ سوچا اور ہوگیا بلکہ اس کے لئے انسان کو اپنا آرام، اپنی خواہشات اور کبھی کبھی اپنی خوشیوں کو بھی قربان کرنا پڑتا ہے۔ اور ایسے لوگ اپنی ذات کے ساتھ ساتھ اپنے سے وابستہ افراد کی بھی بہتری کے لئےکوشاں رہتے ہیں۔ اور اللہ کا فرمان ہے جو اس کے بندوں کے لئے بہترین سوچ رکھتا ہو اور ان کی بھلائی کے لئے کوشش کرتا ہے میں اس کی مدد کرتا ہوں اور جس کے ساتھ اللہ کی مدد شامل ہو پھر دنیا کی کوئی طاقت اس شخص کی ناکامی کا سبب نہیں بن سکتا ۔ اللہ تعالیٰ ہماری سوچوں کو مثبت بنائے اور ہمیں ایک خودار اور باعزت زندگی گزارنے کی توفیق دے۔ آمین
سائنسدانوں نے مونا لیزا کی مسکراہٹ کا رازمعلوم کرلیا
(Source: Voice Of America)
دنیا کی مشہورترین پینٹنگ مونالیزا کی پراسرار مسکراہٹ کو سمجھنے کے لیے لوگوں نے صدیوں سےطرح طرح کی تاویلیں تراشی ہیں۔ لیکن اب مونالیزا کے سائنسی مشاہدے کے بعد سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مونا لیزا نے حال ہی میں ایک بچےکو جنم دیا تھا اور اس کے ہونٹوں پر کھیلنے والا تبسم دراصل ایک نئی نویلی ماں کی تھکاوٹ اور سرشاری کے ملے جلے جذبات سے معمور مسکراہٹ ہے۔پیرس کے لوور عجائب گھرمیں مصوری کے اس شاہکارکی ایک جھلک دیکھنے کے لیے ہر سال لاکھوں لوگ آتے ہیں۔ لیکن وہ صرف ایک جھلک ہی دیکھ پاتے ہیں کیونکہ مونالیزا کو دبیز بلٹ پروف شیشے کی موٹی دیوار کےپار دس فٹ دورہی سے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف ادوار میں اسے محفوظ رکھنے کی خاطر اس کے اوپر وارنش کی کئی سطحیں جمائی گئی ہیں جن سے اصل تصویر مزید دب کر رہ گئی ہے۔ مزید برآں، وقت کے عمل سے اس کے رنگ بھی ماند پڑچکے ہیں۔مونالیزا کے اسرار سے پردہ ہٹانے کے لیے کینیڈاکےقومی تحقیقاتی ادارے این آر سی اور فرانس کے سائنسدانوں نے جدید ترین آلات استعمال کرکے تصویر کی ساخت،مصوری کی تکنیک، عمررسیدگی اور رنگوں اور وارنش کی تہوں کا بغور جائزہ لیا ۔ تصویر کے ایکس رے اور تھری ڈی سکین کے مشاہدے سے معلوم ہواکہ مونالیزا نے دوپٹے کے علاوہ ایک قسم کی ٹوپی بھی پہنی ہوئی تھی جسے اس زمانے میں نئی ماں بننے والی خواتین پہنا کرتی تھیں۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس شفاف ٹوپی کے رنگ معدوم ہوتے چلے گئے اور اب یہ نظر نہیں آتی۔تاریخ دانوں نے معلوم کیا ہے کہ مونالیزا نے ایک لڑکے کو جنم دیا تھا۔ اس سے پہلے مونالیزا کی ایک بیٹی اور ایک بیٹا پیدائش کے کچھ عرصے بعد مرگئے تھے۔
مونالیزا کے مجموعی تاثر میں اس کے ہاتھوں کی مخصوص نشست کا بڑا عمل دخل ہے۔ لیکن اس تحقیق کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ لیونارڈو نے مونالیزاکے ایک ہاتھ کو شروع میں مختلف طریقے سے پینٹ کیا تھا۔ جیسے وہ اٹھنے کے لیے کرسی کے پائے کا سہارا لینا چاہتی ہے۔ لیکن بعدمیں لیونارڈو نے اس ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر لپٹا ہوا دکھادیا جس سے سکون اور اطمینان کا اظہار ہوتا ہے۔لیونارڈو نے یہ پینٹنگ ایک ایسے طریقہٴ کار سے بنائی تھی جسے ’سفاموتو‘ کہا جاتاہے۔ اس نے پینٹنگ بناتےوقت رنگ، تیل اور وارنش کا استعمال اتنی فنکاری سے کیا ہے کہ سائنسدانوں کو کہیں بھی برش کے نشانات نظر نہیں آئے۔اس مخصوص تکنیک کے ہنر مندانہ استعمال سے مونا لیزا پر ایک دھند آلود اور خوابناک سی فضاچھائی ہوئی نظر آتی ہے۔
کیا ان انکشافات سے مونالیزا پر چھائے تحیر کی تہہ کم ہوجائے گی؟ شاید ایسا نہ ہو،کیوں کہ لیونارڈو کے تخلیقی عمل تک رسائی کسی بھی سائنسی ایجاد کی مددسے نہیں ہو سکتی۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اس تحقیق سے دنیا کی محبوب تصویر کے بعض چھپے گوشے منظرِ عام پر آگئے ہیں۔سائنسدانوں نے یہ بھی معلوم کیا ہے کہ مونا لیزاپینٹنگ مجموعی طور پر بہت اچھی حالت میں ہے۔ انہیں رنگوں کے اکھڑنے یا جس لکڑی کے تختے پر مونالیزا کو پینٹ کیا گیا ہے، اس کے خراب ہونے کے کوئی آثار نظرنہیں آئے۔
No comments:
Post a Comment